بھاگتے ہیں دیکھ کر جرار کو
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت علی مرتضیٰ (نجف-عراق)
بھاگتے ہیں دیکھ کر جرار کو
دیکھا جیسے حیدرِ کرار کو
ایک دوجے سے عدو کہتے ہیں یہ
جاں بچاؤ چھوڑ دو تلوار کو
تھی یزیدوں پر قیامت کی گھڑی
جب اٹھایا غازی نے تلوار کو
خود ہوائیں بھی بدل لیتی ہیں رخ
دیکھ کر شبیر کے سالار کو
برق پر چھائی ندامت دیکھ کر
رن میں مولیٰ غازی کے اک وار کو
بولے یوسف بھائی ایسا کر عطا
دیکھ کر عباس کے کردار کو
خاک سمجھیں گے تجھے اہلِ جہاں
اب تلک سمجھا نہیں رہوار کو
بولے غازی لشکرِ کفار سے
بھیجو اپنے تم کسی سردار کو
رکھے خالق شاد تم کو ہے دعا
بولے غازی شاہ کے زوار کو
سر درِ عباس پر رکھ کر حسنؔ
ہم نے دیکھا ہے علمبردار کو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.