کربلا میں کہہ رہی تھی روحِ زہرا ریت پر
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت امام حسین (کربلا-عراق)
کربلا میں کہہ رہی تھی روحِ زہرا ریت پر
لٹ گیا ہے گھر مرا سارے کا سارا ریت پر
جو محافظ تھا سرِ کرب و بلا سادات کا
ہائے اس کو گھیر کر ظالم نے مارا ریت پر
ریزہ ریزہ تھا جگر مولیٰ حسن کا جس طرح
ویسے ہی قاسم ہوا تھا پارہ پارہ ریت پر
شاہ پر طاری ضعیفی اس گھڑی ہونے لگی
جس گھڑی دیکھا علی اکبر کا لاشہ ریت پر
چشمۂ زمزم نکل آتا تھا اصغر کے لیے
گر رگڑتا ایڑیاں حیدر کا پوتا ریت پر
لٹ گئی تھی کل خدائی اور محشر تھا بپا
جس گھڑی شبیر گھوڑے سے گرا تھا ریت پر
گلشنِ احمد کے ہر اک گل کو دیکھو تو ذرا
کس طرح سے تپتے صحرا میں ہے بکھرا ریت پر
جس جگہ پر بے ازن جاتے نہیں جبریل بھی
ہائے وہ کاشانہ ظالم نے جلا یا ریت پر
اے حسنؔ لمسِ لبِ آلِ عبا کے واسطے
کربلا میں رہ گیا پانی ترستا ریت پر
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.