حاصل ہوئی ہے جس کو بھی الفت امیر کی
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت علی مرتضیٰ (نجف-عراق)
حاصل ہوئی ہے جس کو بھی الفت امیر کی
رحمت اسی پہ خاص ہے ربِ قدیر کی
عشقِ علی کا اور بھی بڑھ جاتا ہے خمار
جب بھی میں پیتا ہوں مئے خمِ غدیر کی
مٹی سے گھر بناتے ہیں باغِ بہشت کا
دیکھو تو شان شاہِ نجف کے فقیر کی
جن و بشر ہوں یا کہ چرند و پرند ہوں
واجب جہان پر ہے ولایت امیر کی
سکھلا گئے ہیں الفتِ آلِ نبی ہمیں
سیرت اٹھا کے دیکھو تو پیرانِ پیر کی
خلدِ بریں اسی کا مقدر ہے دوستوں
الفت ہو جس کے دل میں شہِ بے نظیر کی
دنیا کے تاجدار گدا بن کے آتے ہیں
ادنیٰ سی شان یہ ہے علی کے اسیر کی
عشقِ علی کے رنگ سے ظاہر یہی ہوا
مٹی بہت ہے پاک حسن کے خمیر کی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.