Font by Mehr Nastaliq Web

اے مظہرِ جلالِ خدا یا علی مدد

سید حسن احمد

اے مظہرِ جلالِ خدا یا علی مدد

سید حسن احمد

MORE BYسید حسن احمد

    دلچسپ معلومات

    منقبت در شان حضرت علی مرتضیٰ (نجف-عراق)

    اے مظہرِ جلالِ خدا یا علی مدد

    اے نفسِ پاکِ شاہِ ہدیٰ یا علی مدد

    کوشش سبھوں نے کی تھی پہ خیبر نہ سر ہوا

    آخر میں مصطفیٰ نے کہا یا علی مدد

    کرنا علی کا ذکر جہاں ناگوار ہو

    ہاں اس جگہ پہ کہنا سدا یا علی مدد

    پوچھا کسی نے مجھ سے کہ نادِ علی ہے کیا

    فوراً زباں پہ آن پڑا یا علی مدد

    مشکل گھڑی میں سوچو تمہارا بنے گا کیا

    میرا ہے کیا میں دوں گا صدا یا علی مدد

    دشتِ بلا میں دیکھ کے تنہا حسین کو

    کہنے لگی تھی کرب و بلا یا علی مدد

    دریا میں گاڑ کر سرِ کرب و بلا علم

    کہہ اٹھا بادشاہِ وفا یا علی مدد

    معصوم سی سکینہ کے قدموں میں بیڑیاں

    دیتی تھی گام گام ندا یا علی مدد

    مشکل میں گھر گیا ہو کرم کی کرو نظر

    پیرِ تمام اہلِ صفا یا علی مدد

    سنت ہے جب رسول کی واعظ تو پھر بتا

    ممبر سے کہہ کے تو بھی ذرا یا علی مدد

    ہر با ضمیر فرد کے لب سے نکل گیا

    کربل کی پڑھ کے جور و جفا یا علی مدد

    حیدر کی مدحتوں سے منور ہے اب قلم

    تو نے ورق پہ ہے جو لکھا یا علی مدد

    مشکل جو آئے ہم تو کہیں گے یہی حسنؔ

    مشکل کشا و شیرِ خدا یا علی مدد

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے