Font by Mehr Nastaliq Web

آج لب پر سبھی کے ہے نغمہ یہی

سید حسن احمد

آج لب پر سبھی کے ہے نغمہ یہی

سید حسن احمد

MORE BYسید حسن احمد

    دلچسپ معلومات

    منقبت در شان حضرت سید علی احمد

    آج لب پر سبھی کے ہے نغمہ یہی

    خواجہ سید علی خواجہ سید علی

    تم ہو آلِ نبی تم ہو آلِ علی

    خواجہ سید علی خواجہ سید علی

    مصطفیٰ سے امامِ زمانہ تلک

    تیرا شجرہ ہے رشکِ زمین و فلک

    نور ہی نور کی ہے ترے ہر کڑی

    خواجہ سید علی خواجہ سید علی

    میراں مسعود سے پائی شانِ سخا

    اور داتار سے تم نے لی ہے عطا

    کہہ رہے ہیں یہ دیکھو تو سارے ولی

    خواجہ سید علی خواجہ سید علی

    خواجہ مسلم پیا کے ہو تم جانشیں

    اور بشیرِ امیں کے ہو مسند نشیں

    نائبِ حضرتِ خواجہ نعمت علی

    خواجہ سید علی خواجہ سید علی

    5.چہرہ دیکھو خشی سے سبھی کا کھلا

    داد اٹھ اٹھ کے ہر کوئی دینے لگا

    شان و عظمت تری جب سنائی گئی

    خواجہ سید علی خواجہ سید علی

    در پہ آئے ہیں دامن پسارے ہوئے

    دکھ مصیبت بلاؤں سے ہارے ہوئے

    بھر دو جھولی ہے جتنی بھی خالی پڑی

    خواجہ سید علی خواجہ سید علی

    ہے کھلا آج دیکھو تو بابِ عطا

    سامنے جلوہ فرما ہے بہرِ سخا

    مانگ لو آج اپنی مرادیں سبھی

    خواجہ سید علی خواجہ سید علی

    تن پہ جوڑا سجا تیرے عرفان کا

    اور عصا ہاتھ میں تیرے فیضان کا

    اور دستار نوری ہے سر پر سجی

    خواجہ سید علی خواجہ سید علی

    نسبتیں تجھ کو شاہا بڑی ہے ملی

    قادری چشتی فردوسی اور اشرفی

    اس سے بڑھ کر ہے تو شاہا آلِ نبی

    خواجہ سید علی خواجہ سید علی

    نور سے دیکھیے روضہ معمور ہے

    ہر کوئی آج بے خود ہے مسرور ہے

    دلنشیں کیف کی ہے عجب ہی گھڑی

    خواجہ سید علی خواجہ سید علی

    دیکھ کر کھل اٹھی میرے دل کی کلی

    کیوں نہ مسرور ہو دیکھ کر کے سبھی

    مثلِ دولہن تری آج تربت سجی

    خواجہ سید علی خواجہ سید علی

    ہر طرف آج چرچا ہے تیرا پیا

    ہر زباں نے یہی بارہا ہے کہا

    دھوم چارو طرف بس تری ہے مچی

    خواجہ سید علی خواجہ سید علی

    جب کڑا وقت ہم پر ہے آیا کہیں

    ہم نے فوراً تجھے ہے پکارا وہیں

    نام سے تیرے ساری مصیبت ٹلی

    خواجہ سید علی خواجہ سید علی

    دل کو عشقِ نبی سے مزین کیا

    اور الفت سے حیدر کی روشن کیا

    پھر کہیں جاکے بوئے جلی ہے ملی

    خواجہ سید علی خواجہ سید علی

    تیرے اندازِ شیریں کے قرباں پیا

    اس کو آسانی سے سب ہے سمجھا دیا

    جس نے تقریر تیری ہے دل سے سنی

    خواجہ سید علی خواجہ سید علی

    کیا بتاؤں حسنؔ کیا ہیں سید علی

    کافی ہے شان میں انکے جملہ یہی

    وہ ہیں رب کے ولی وہ ہیں رب کے ولی

    خواجہ سید علی خواجہ سید علی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے