جلوہ اک بار مرے پیر دکھا دو مجھ کو
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت سید علی احمد (بکوا-)
جلوہ اک بار مرے پیر دکھا دو مجھ کو
ہوگیا ہوں بڑا بیمار شفا دو مجھ کو
میری آنکھیں ہیں زیارت کو تری اب بے چین
آرزو اتنی ہے دیدار کرا دو مجھ کو
تیری تربت سے مجھے آتی ہے خوشبو تیری
یاد آتی ہے بہت آقا ندا دو مجھ کو
ڈھونڈتی ہیں مری آنکھیں وہی انداز و ادا
زلفِ خم پھر سے ذرا اپنا دکھا دو مجھ کو
ہے گزارش اے مرے پیر علی احمد شاہ
صدقہ حیدر کے دلاروں کا عطا ہو مجھ کو
اک نظر میری طرف بھی شہِ بکوا کے پسر
میں بھنور میں ہوں پھنسا پار لگا دو مجھ کو
آپ کی راہ و طریقے پہ حسنؔ چلتا رہے
ہاتھ سر پر مرے رکھ کر کے دعا دو مجھ کو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.