خیالوں میں شاہِ امم دیکھتے ہیں
خیالوں میں شاہِ امم دیکھتے ہیں
خیاباں خیاباں ارم دیکھتے ہیں
منائیں جو میلاد ان کا زمیں پر
ستارے بھی ان کو بہم دیکھتے ہیں
جو ان کا نہیں ہے وہ رب کا نہیں ہے
ارم سے پرے اس کو ہم دیکھتے ہیں
اطاعت خدا کی ہو یا مصطفیٰ کی
خدا کا کرم ہی کرم دیکھتے ہیں
اشارہ ملے ان کی انگلی کا جس دم
قمر ٹکڑے ہوتا بھی ہم دیکھتے ہیں
خدا کی رضا پر وہ رہتے ہیں راضی
تبھی سہتے رنج و الم دیکھتے ہیں
سنا کر زمانے کو ہم نعت قائمؔ
ہر اک سمت باغِ ارم دیکھتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.