Font by Mehr Nastaliq Web

زمیں کی ظلمتوں کو نور سے اپنے مٹایا ہے

سید حب دار قائمؔ

زمیں کی ظلمتوں کو نور سے اپنے مٹایا ہے

سید حب دار قائمؔ

MORE BYسید حب دار قائمؔ

    زمیں کی ظلمتوں کو نور سے اپنے مٹایا ہے

    زمیں کا ظلم و جور اپنی محبت سے گھٹایا ہے

    بہت خوش ہو گئے آقا جو دیکھا ولولہ سب کا

    جو استقبال میں بچوں نے دف اس دن بجایا ہے

    نبیِ اکرم نے یثرب کو مدینے میں بدل ڈالا

    فضاوں میں مہک پرور جو سانسوں کو ملایا ہے

    ہوئے قربان آقا پر جو دیکھا نور کا جلوہ

    مدینے میں مرے آقا نے جب چہرہ دکھایا ہے

    نبی نے برد باری سے مزاجوں کو بدل ڈالا

    کدورت رکھنے والوں کو رہِ الفت دکھایا ہے

    امانت کا دیانت کا شجر تھا زرد موسم میں

    عمل سے اس کو برگ و بار آقا نے بنایا ہے

    شکاری جو پرندوں کو جدا کر دیتے بچوں سے

    انہیں ماں باپ سے ان کے محمد نے ملایا ہے

    ہمارے مصطفیٰ کا معجزہ دیکھو جہاں والو

    خدا کے سامنے آتش پرستوں کو جھکایا ہے

    نبی کیسے کوئی بھی جا سکا ہے سامنے رب کے

    خدا نے مصطفیٰ کو عرش پر جیسے بٹھایا ہے

    بلائے گا بھلا کیسےکوئی محبوب کو اپنے

    خدا نے آسماں پر جس طرح ان کو بلایا ہے

    مدینے سے نبی ہم کو بلا لیں گے کبھی قائمؔ

    دعاؤں میں صداؤں میں بھی یاد ان کو کرایا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے