ہر اک ذرے میں احمد کا گزر ضو بار باقی ہے
ہر اک ذرے میں احمد کا گزر ضو بار باقی ہے
مدینے میں جہاں جاؤں وہاں دیدار باقی ہے
رواں سانسوں کی مالا میں نہاں احمد کا مسکن ہے
دھڑکتے دل کی شوکت میں وہی دلدار باقی ہے
مرے احمد کہیں گے حشر میں امت کی بخشش کا
شفاعت حشر میں کرنے کا اک پندار باقی ہے
لحد میں غم گسارِ دل فگاراں ہی سہارا دے
ہر اک رشتہ جہاں چھوڑے وہاں غم خوار باقی ہے
مکمل کر نہیں پایا میں بستارِ نبی اب تک
مری ہستی ضروری ہے مری گفتار باقی ہے
لحد میں پوچھنے آئے ملائک مجھ سے مولیٰ کا
زباں بولی کہ خضرٰی میں مرا سردار باقی ہے
زیارت کی تمنا جس کسی نے کی ہوئی پوری
ہر اک بطحیٰ سے ہو آیا فقط حبدارؔ باقی ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.