Font by Mehr Nastaliq Web

درود چشم اور گوش پر کبھی صبا سے سن

سید حب دار قائمؔ

درود چشم اور گوش پر کبھی صبا سے سن

سید حب دار قائمؔ

MORE BYسید حب دار قائمؔ

    درود چشم اور گوش پر کبھی صبا سے سن

    سلام زلف اور گال پر کبھی خدا سے سن

    درود آل پر بلال پڑھ گئے ہیں جس طرح

    سلام اس غلام کا ہے آل پر ہوا سے سن

    درود مصطفیٰ کی ہر پلک کی ہر جھپک پہ ہے

    سلام ان کی ریش پر ہوا کا سن فضا سے سن

    درود پڑھ کے مصطفیٰ سے ہر گھڑی کلام کر

    سلام کے جواب کی صدائیں مصطفیٰ سے سن

    درود سے دعا کی ابتدا و انتہا بھی کر

    سلام اکتساب کر کے فیصلہ ادا سے سن

    درود کا نصاب لکھ جہانِ دل کی صوت پر

    سلام انتساب کر کے رفعتیں خدا سے سن

    درود سے زمین کو سجا کے تو دوام دے

    سلام کی ہو بزم تو ادب سے سن حیا سے سن

    درود پر ہے گام زن فلک فلک زمیں زمیں

    سلام پر لگی ہوئی کرن کا سن ضیا سے سن

    درود سے ہے فصلِ گل پہ بارشوں کا سلسلہ

    سلام پر لگی ہوئی گھٹا کی ہر ادا سے سن

    درود پڑھ سلام کر یہ ہر مرض کی ہے دوا

    سلام کے جواب سے ملی ہے جو شفا سے سن

    درود سن بہ قائمِؔ حواس ہر نماز میں

    سلام ہر فقیر اور صاحبِ قبا سے سن

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے