سبز گنبد کی فضاؤں کا سفر مانگتے ہیں
سبز گنبد کی فضاؤں کا سفر مانگتے ہیں
ہم کسی روز مدینے کی سحر مانگتے ہیں
نعت بنتے ہوئے آنکھوں میں گہر آ جائیں
اپنی مدحت سے دعاؤں میں اثر مانگتے ہیں
ہر طرف مولیٰ کے ہم نقشِ کفِ پا دیکھیں
جس پہ حسنین کا جلوہ ہو وہ در مانگتے ہیں
دوڑ کر ان کے اشارے پہ شجر آ جاتے
ان کو شاخوں میں چھپاتے وہ شجر مانگتے ہیں
اپنی قسمت میں بھی سرکار کی بستی لکھ دے
جس میں سرکار کا مسکن تھا وہ در مانگتے ہیں
دنیا داروں سے پزیرائی کا لالچ کب ہے
اپنے آقا سے پزیرائی کا زر مانگتے ہیں
جب ارادہ ہو غزل کا تو رقم ہو مدحت
ایسا دلدار کی مدحت کا ہنر مانگتے ہیں
کب سے میلاد منانے کے لیے دنیا میں
جو بھی آکاش کی مانند ہو گھر مانگتے ہیں
رب سے ناموسِ رسالت کے لیے ہم قائمؔ
جس میں للکار کی جرات ہو جگر مانگتے ہیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.