گل و لالہ کی تحریروں میں بس فکرِ رسا تو ہے
گل و لالہ کی تحریروں میں بس فکرِ رسا تو ہے
یہی دل میرا کہتا ہے کُجا میں ہوں کجا تو ہے
کوئی مشکل جو آ جائے پریشاں دل نہیں ہوتا
کہ ہر مشکل کے رستے میں مرا مشکل کشا تو ہے
جہاں تک یہ نظر جائے وہاں تک نور ہے تیرا
ہر اک تصویر کے جلوے میں شامل مقتضا تو ہے
ہدایت یہ مجھے قرآن کی سطروں سے حاصل ہے
محمد کی قسم مجھ کو فنا میں ہوں بقا تو ہے
گلابوں کے تبسم اور تتلی کی نزاکت میں
نظر خوش رنگ جو آئے خدایا وہ ادا تو ہے
جہاں پر حبس ہوتا ہے جہاں ہوتے ہیں تشنہ لب
وہاں پر جو برستی ہے وہ میرے رب گھٹا تو ہے
تو ہی اول تو ہی آخر تو ہی ظاہر تو ہی باطن
مرا ہونا ترا ہونا میں کب ہوں؟ یا خدا تو ہے
مجھے عرفان کی دولت ملی تیرے ہی کلمے سے
ترے کلمے میںلا میں اے مرے مالک الہ تو ہے
گل و لالہ میں چنبیلی میں رنگ و نور ہے قائمؔ
ہر اک جلوے کی رعنائی میں اک جلوہ نما تو ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.