عندلیبِ خیال آپ سے ہے
عندلیبِ خیال آپ سے ہے
ہر سخن لازوال آپ سے ہے
نورِ مدحت سے دل منور ہے
اخترِ دل کا حال آپ سے ہے
جس قلم سے ثنا کے پھول جھڑیں
وہ قلم بے مثال آپ سے ہے
رنگ و بو میں جو حسن ہے ظاہر
دل کشا ہر جمال آپ سے ہے
ذمزمے جو فضاوں میں ہیں گھلے
ان میں سارا کمال آپ سے ہے
جو حوالہ ہے حسنِ عالم کا
اس کی ساری مثال آپ سے ہے
کیسے ملتے ہیں آپ عاشق سے
آقا میرا سوال آپ سے ہے
جو اذاں دے تو پھر سحر کر دے
شانِ حضرت بلال آپ سے ہے
جس پہ رہتا ہے نور مدحت کا
وہ قلم خوش خصال آپ سے ہے
اذن قائمؔ جو ہو تو کاغذ پر
میرا حسنِ مقال آپ سے ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.