ابتدا انتہا سروری پرکشش
ابتدا انتہا سروری پرکشش
مصطفیٰ دلربا عبقری پرکشش
آپ کی نعت نے تازگی بخش دی
پہلے تو یوں نہ تھی زندگی پرکشش
اک نظر مجھ خطا کار پر بھی کریں
آپ کے در پہ ہو حاضری پرکشش
میرے جذبات میں ہو چمک مادری
لخلخے جیسی ہو شاعری پرکشش
ہو گیا بادشہ مل گئی ہے جسے
گنبدِ سبز پر نوکری پرکشش
میں نے بھی خواب میں دیکھ لی دلکشا
آپ کے نور کی اختری پرکشش
آپ کے در پہ ہر اک ملک کہہ گیا
آپ کی غربا پروری پرکشش
خاک چومی ہے جس نے درِ پاک پر
سوچ اس کی ہوئی انوری پرکشش
قائمِؔ بے نوا نے بھی سر خم کیا
تو ملی آپ سے افسری پرکشش
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.