Font by Mehr Nastaliq Web

ثنا کی مجھ کو ملے روشنی کبھی نہ کبھی

سید حب دار قائمؔ

ثنا کی مجھ کو ملے روشنی کبھی نہ کبھی

سید حب دار قائمؔ

MORE BYسید حب دار قائمؔ

    ثنا کی مجھ کو ملے روشنی کبھی نہ کبھی

    رواں دواں ہو مری آگہی کبھی نہ کبھی

    طوافِ خضریٰ جو میری نظر کرے عاجز

    بھلی لگے گی انہیں عاجزی کبھی نہ کبھی

    اگر نہیں ہے محبت رسولِ اکرم کی

    ضرور دے گی دغا زندگی کبھی نہ کبھی

    مجھے عطا ہو خدارا ضیا کا ہر لمعہ

    یہ دور ہوگی مری تیرگی کبھی نہ کبھی

    زمین طیبہ کی چوموں قدم قدم پہ مگر

    دکھائے مجھ کو مری عاشقی کبھی نہ کبھی

    لکھوں گا شاہِ مدینہ کا میں درود و سلام

    مرے سخن کو ملے تازگی کبھی نہ کبھی

    کبھی تو نقشِ کفِ پا کو چوم لوں قائمؔ

    زباں پہ رقص کرے چاشنی کبھی نہ کبھی

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے