Font by Mehr Nastaliq Web

دل ڈوبتا ہے ہجر کے نا دیدہ آب سے

سید حب دار قائمؔ

دل ڈوبتا ہے ہجر کے نا دیدہ آب سے

سید حب دار قائمؔ

MORE BYسید حب دار قائمؔ

    دل ڈوبتا ہے ہجر کے نا دیدہ آب سے

    کب سرفراز ہوگا محمد کے خواب سے

    ان کو دہن دیا ہے خدا نے وہ بے مثال

    کڑوے کو میٹھا کر دے جو اپنے لعاب سے

    درماں ہر ایک درد کا میرے حضور ہیں

    ہم کو پتہ چلا ہے خدا کی کتاب سے

    جب حشر میں کریں گے شفاعت وہ شان سے

    ہم کو اماں ملے گی خدا کے عذاب سے

    ذکرِ خدا کا لطف جسے ہوگیا عطا

    اس کو غرض نہیں ہے صدائے رباب سے

    خضریٰ کے ہیں نصیب خدا کے ہی فضل سے

    جو جگمگا رہا ہے بڑی آب و تاب سے

    معراج پر گئے ہیں محمد جو عرش پر

    جلوہ دکھا دیا ہے خدا نے حجاب سے

    محبوب سر اٹھاؤ تو سجدے سے اب ذرا

    ہم نے دعا سنی ہے تمہارے حساب سے

    امت کو بخش دینا کہا تھا حضور نے

    قائمؔ کبھی نہ ڈرنا تو روزِ حساب سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے