دل ڈوبتا ہے ہجر کے نا دیدہ آب سے
دل ڈوبتا ہے ہجر کے نا دیدہ آب سے
کب سرفراز ہوگا محمد کے خواب سے
ان کو دہن دیا ہے خدا نے وہ بے مثال
کڑوے کو میٹھا کر دے جو اپنے لعاب سے
درماں ہر ایک درد کا میرے حضور ہیں
ہم کو پتہ چلا ہے خدا کی کتاب سے
جب حشر میں کریں گے شفاعت وہ شان سے
ہم کو اماں ملے گی خدا کے عذاب سے
ذکرِ خدا کا لطف جسے ہوگیا عطا
اس کو غرض نہیں ہے صدائے رباب سے
خضریٰ کے ہیں نصیب خدا کے ہی فضل سے
جو جگمگا رہا ہے بڑی آب و تاب سے
معراج پر گئے ہیں محمد جو عرش پر
جلوہ دکھا دیا ہے خدا نے حجاب سے
محبوب سر اٹھاؤ تو سجدے سے اب ذرا
ہم نے دعا سنی ہے تمہارے حساب سے
امت کو بخش دینا کہا تھا حضور نے
قائمؔ کبھی نہ ڈرنا تو روزِ حساب سے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.