Font by Mehr Nastaliq Web

قرآن میں دیکھا تو انداز نرالا ہے

سید حب دار قائمؔ

قرآن میں دیکھا تو انداز نرالا ہے

سید حب دار قائمؔ

MORE BYسید حب دار قائمؔ

    قرآن میں دیکھا تو انداز نرالا ہے

    والشمس کے چہرے پر والیل کا سایہ ہے

    گلریز جو گردن میں انوار کی مالا ہے

    اس کے ہی وسیلے سے تن من میں اجالا ہے

    مسرور مرا دل ہے اسمِ شہِ والا سے

    الہام کی رم جھم میں جب ان کا حوالہ ہے

    خوشبو کا بسیرا ہے گھر میں مرے ہر لمحہ

    مدحت کے گلستاں کا یہ شوق جو پالا ہے

    الفاظ اگلتا ہے اس نور کے پیکر پر

    جب سے یہ قلم میں نے اک نور میں ڈالا ہے

    بس لکھتا رہوں ان پر بس پڑھتا رہوں ان کو

    مدحت کے علاوہ بس ان ہونٹوں پہ تالا ہے

    تصویر لگائی ہے نعلین کی پرچم پر

    لہرا کے اسے چھت پر گھر اپنا اجالا ہے

    قائمؔ کو مدینے کی ہو اذنِ زیارت اب

    مخمور نگاہوں میں یہ ذوق ہی بالا ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے