قرآن میں دیکھا تو انداز نرالا ہے
قرآن میں دیکھا تو انداز نرالا ہے
والشمس کے چہرے پر والیل کا سایہ ہے
گلریز جو گردن میں انوار کی مالا ہے
اس کے ہی وسیلے سے تن من میں اجالا ہے
مسرور مرا دل ہے اسمِ شہِ والا سے
الہام کی رم جھم میں جب ان کا حوالہ ہے
خوشبو کا بسیرا ہے گھر میں مرے ہر لمحہ
مدحت کے گلستاں کا یہ شوق جو پالا ہے
الفاظ اگلتا ہے اس نور کے پیکر پر
جب سے یہ قلم میں نے اک نور میں ڈالا ہے
بس لکھتا رہوں ان پر بس پڑھتا رہوں ان کو
مدحت کے علاوہ بس ان ہونٹوں پہ تالا ہے
تصویر لگائی ہے نعلین کی پرچم پر
لہرا کے اسے چھت پر گھر اپنا اجالا ہے
قائمؔ کو مدینے کی ہو اذنِ زیارت اب
مخمور نگاہوں میں یہ ذوق ہی بالا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.