لطف و کرم خدا نے کیا ہے نزول کا
لطف و کرم خدا نے کیا ہے نزول کا
طیبہ سے مل گیا ہے یہ خامہ رسول کا
معراج پر گیا ہے نہ اب تک کوئی بشر
عرشِ خدا پہ پہنچا ہے بابا بتول کا
میرے نبی کا بیٹا بھی کتنا عظیم ہے
ہر ایک معترف ہے حسن با اصول کا
قرآن کا اٹھانا پہاڑوں کا بس نہیں
نازل ہوا جہاں وہ ہے سینہ رسول کا
جبریل دیکھتا تھا ہزاروں برس جسے
تارا وہ عرش پر تھا جمالِ رسول کا
اک نور کا جہاں جو اترتا رسول پر
کیسے بیاں کروں وہ کرشمہ نزول کا
حبدارؔ لکھتے لکھتے سخنور جو بن گیا
مدحت نہ لکھ سکا تو ہے شاعر فضول کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.