خیالوں میں ان کا گزر ہوگیا ہے
خیالوں میں ان کا گزر ہوگیا ہے
مری مدحتوں میں اثر ہوگیا ہے
درودِ نبی سے کیا دل کو روشن
مرا دل بھی مثلِ قمر ہوگیا ہے
یہی خلد کا راستہ ہے یقیناً
مدینے کی جانب سفر ہوگیا ہے
سعادت ملی ہے یہ مجھ کو خدا سے
سدا نعت لکھنا ہنر ہوگیا ہے
کڑی دھوپ میں جب پکارا ہے ان کو
مرا سوچنا بھی شجر ہوگیا ہے
یہ عشقِ نبی جب سے اترا ہے دل میں
مرے دل کا روشن نگر ہوگیا ہے
یہ حبدار قائمؔ نبی کا ہے خادم
جبھی تو یہ مثلِ سحر ہوگیا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.