سخنوری میں زیر اور زبر کہے علی علی
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت علی مرتضیٰ (نجف-عراق)
سخنوری میں زیر اور زبر کہے علی علی
جو لفظ بن گیا گہر گہر کہے علی علی
زمین سے نظر ہٹی گئی فلک سے پار جب
جہاں گئی جدھر گئی نظر کہے علی علی
علی مری تو سانس میں اتر گئے کچھ اس طرح
یہ تن کہے یہ من کہے جگر کہے علی علی
ضیائے شمس میں گیا نگاہِ شمس نے کہا
چلو گے جس طرف بھی رہ گزر کہے علی علی
ثمر سے پوچھنے گیا بتاؤ مولیٰ کون ہے
ثمر کی بات سن کے پھر شجر کہے علیؑ علی
میں شب سے پوچھتا رہا کہ ہے تری امید کیا
تو شب کے ساتھ جھوم کر سحر کہے علی علی
سفر جو وحدتوں کا ہے وہ کثرتوں میں ڈھل گیا
نگر نگر میں گھوم کر سفر کہے علی علی
کرن کرن جو چاندنی سے پھوٹتا ہے فضل بھی
وہ بحر و بر میں جا کے بے خطر کہے علی علی
میں قائمؔ الصلواۃ ہوں میں بندگی کی ذات ہوں
سجود کا قیام کا ہنر کہے علی علی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.