ہمیں عظمتوں کا نشاں مل گیا ہے
ہمیں عظمتوں کا نشاں مل گیا ہے
رواں رحمتوں کا زماں مل گیا ہے
غریبوں کا والی کوئی بھی نہیں تھا
ہمیں والیٔ دو جہاں مل گیا ہے
گھٹا ظلمتوں کی تھی چھائی جہاں پر
وہاں پر درخشاں سماں مل گیا ہے
اشارے سے توڑا چمکتے قمر کو
نیا معجزہ اک وہاں مل گیا ہے
گواہی جو دی سو سمارِ زمیں نے
تو اسلام کو اک جواں مل گیا ہے
بدن میں تھا میرے جو دل تیرگی میں
اسے روشنی کا جہاں مل گیا ہے
وہ سرکار احمد عرب کی زمیں کا
مکیں تھا وہاں کا یہاں مل گیا ہے
یہ قائمؔ ثمر ہے جو لکھتا ہوں مدحت
سہانا سا حرف و بیاں مل گیا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.