Font by Mehr Nastaliq Web

محبت کو قلم میں ڈال کر حرفِ ثنا لکھ دے

سید حب دار قائمؔ

محبت کو قلم میں ڈال کر حرفِ ثنا لکھ دے

سید حب دار قائمؔ

MORE BYسید حب دار قائمؔ

    محبت کو قلم میں ڈال کر حرفِ ثنا لکھ دے

    مہک جائے قلم تیرا اگر خیرالوریٰ لکھ دے

    اٹھایا آپ کا کرتہ لیا بوسہ سوالی نے

    تو اس کی اس گزارش کو مودت کی ادا لکھ دے

    لٹایا گرم دھرتی پر پگھلتی تن کی چربی تھی

    محمد کے غلاموں کا یہی رنگِ وفا لکھ دے

    مرے آقا کی یادوں میں جو آنکھوں سے ہوئے جاری

    رواں اشکوں کی مالا کو تو رحمت کی گھٹا لکھ دے

    حسیں نقشِ کفِ پا تھے عرب کے ریگزاروں پر

    اجازت چومنے کی اک گھڑی میرے خدا لکھ دے

    میں بیمارِ محمد ہوں مجھے آقا سے ملنا ہے

    ملا کر تو مجھے یا رب مرے حق میں شفا لکھ دے

    زباں پر تھا احد جس کے وہ اک حبشی مجاہد تھا

    مری قسمت میں اُس جیسا تو اک حرفِ ضیا لکھ دے

    کبھی حسنین کے صدقے تو قائمؔ کی حزیں آنکھوں

    کی بے نوری میں حوروں سی طلسماتی حیا لکھ دے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے