ہمراہ اپنے بطحیٰ مجھے لے کے جاؤ لوگو
ہمراہ اپنے بطحیٰ مجھے لے کے جاؤ لوگو
دل سے جدائی کا غم تم ہی مٹاؤ لوگو
خوشبو ملے گی ہم کو ہونٹوں سے جب لگیں گے
نعلین کی زیارت اب تو کراؤ لوگو
طیبہ کی آرزو میں آسی تڑپ تڑپ کر
جو رو رہے ہیں ان کو دل سے لگاؤ لوگو
تم ساتھ لے کے ہم کو بطحیٰ کی وادیوں میں
نقشِ قدم بھی ان کے ہم کو دکھاؤ لوگو
خضریٰ کے پاس ہم کو کچھ دیر بیٹھنے دو
کرنی ہیں دل کی باتیں ابھی مت اٹھاؤ لوگو
آنکھیں بچھا کے ہم بھی پلکیں بچھا کے تم بھی
خضریٰ کو دیکھ کر غم سب بھول جاؤ لوگو
کارِ جہاں میں اپنا ہے بے بسی کا عالم
جینا ہوا ہے مشکل ہم کو بچاؤ لوگو
ترسا ہوا ہوں کب سے چوموں گا جالیوں کو
خضریٰ کے پاس مجھ کو ابھی لے کے جاؤ لوگو
قائمؔ نے جو کہی ہیں تم عاجزی سے جا کر
میرے نبی کو میری نعتیں سناؤ لوگو
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.