یاد میں سرکار کی یہ چشمِ گریاں تر رہے
یاد میں سرکار کی یہ چشمِ گریاں تر رہے
تا دمِ آخر درودِ مصطفیٰ لب پر رہے
قصر و ایواں کی مجھے کوئی تمنا اب نہیں
خاکِ طیبہ ہی مِرے حق میں حقیقی زر رہے
نیند آ جائے تو خوابوں میں زیارت ہو نصیب
منکشف آنکھوں پہ میری مصطفیٰ کا در رہے
عاصیوں پر بھی ہے یارب کس قدر تیرا کرم
صدقۂ سرکار سے کاسہ ہمیشہ تر رہے
تشنگی ایسی ہے کہ سرکار کے دربار میں
آخری ہو سانس اور چوکھٹ پہ میرا سر رہے
اوڑھ لی ہے ہم نے جب سے عشقِ احمد کی رِدا
پھر بھلا کس شے کا ہم کو دو جہاں میں ڈر رہے
یا الٰہی خاکِ طیبہ دے مری تقدیر میں
کاش راویؔ کا مدینے میں یہی اک گھر رہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.