Font by Mehr Nastaliq Web

یاد میں سرکار کی یہ چشمِ گریاں تر رہے

سید رضوان راوی

یاد میں سرکار کی یہ چشمِ گریاں تر رہے

سید رضوان راوی

MORE BYسید رضوان راوی

    یاد میں سرکار کی یہ چشمِ گریاں تر رہے

    تا دمِ آخر درودِ مصطفیٰ لب پر رہے

    قصر و ایواں کی مجھے کوئی تمنا اب نہیں

    خاکِ طیبہ ہی مِرے حق میں حقیقی زر رہے

    نیند آ جائے تو خوابوں میں زیارت ہو نصیب

    منکشف آنکھوں پہ میری مصطفیٰ کا در رہے

    عاصیوں پر بھی ہے یارب کس قدر تیرا کرم

    صدقۂ سرکار سے کاسہ ہمیشہ تر رہے

    تشنگی ایسی ہے کہ سرکار کے دربار میں

    آخری ہو سانس اور چوکھٹ پہ میرا سر رہے

    اوڑھ لی ہے ہم نے جب سے عشقِ احمد کی رِدا

    پھر بھلا کس شے کا ہم کو دو جہاں میں ڈر رہے

    یا الٰہی خاکِ طیبہ دے مری تقدیر میں

    کاش راویؔ کا مدینے میں یہی اک گھر رہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے