حدِ تسلیم و روایات سے آگے نہ بڑھا
حدِ تسلیم و روایات سے آگے نہ بڑھا
میں محمد کی ہدایات سے آگے نہ بڑھا
جلوہ گر سامنے دنیا کی معیشت تھی مگر
دل کبھی آپ کی خیرات سے آگے نہ بڑھا
تذکرے خلدِ بریں کے بھی سنے ہیں لیکن
ذہن طیبہ کے خیالات سے آگے نہ بڑھا
مہ و انجم میں تجلی کی فراوانی ہے
کوئی پرتو تیرے لمعات سے آگے نہ بڑھا
اسمِ احمد کی حلاوت کا یہ عالم ہے کہ دل
کبھی اندیشۂ آفات سے آگے نہ بڑھا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.