عجب پر کیف و رنگیں زندگی تھی شب جہاں میں تھا
عجب پر کیف و رنگیں زندگی تھی شب جہاں میں تھا
زمیں سے آسماں تک روشنی تھی شب جہاں میں تھا
درودوں کے ترانے مستقل جاری تھے ہونٹوں پر
فضا انوار میں ڈوبی ہوئی تھی شب جہاں میں تھا
سجی تھی بزم ذکرِ مصطفیٰ کی لوگ بیٹھے تھے
ہر اک لب پر درودوں کی لڑی تھی شب جہاں میں تھا
مسلسل تذکرہ تھا نور کا نورانی پیکر کا
ندی بھی نور کی اک بہہ رہی تھی شب جہاں میں تھا
بتانا سخت مشکل ہے کہ کیفیت تھی میری کیا
مرے سر پر بس اک چادر تنی تھی شب جہاں میں تھا
ابو بکر و عمر عثمان و حیدر کے بھی چرچے تھے
شہید کربلا کی بات بھی تھی شب جہاں میں تھا
مسرت ہی مسرت تھی وہاں چاروں طرف تابشؔ
بہ ہر پہلو وہاں آسودگی تھی شب جہاں میں تھا
- کتاب : Kalam of Tabish Mahdi (Pg. 41)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.