محمد مصطفیٰ سرکارِ عالی
ہے ان کی سیرتِ اقدس نرالی
جہاں میں بے شمار آئے پیمبر
مگر ان کی نبوت بے مثالی
لقب نبیوں میں رحمت ہے انہی کا
بہت اچھی لگی یہ نظمِ حالی
زہے قسمت سلام ان پر میں بھیجوں
ہو میرے سامنے روضے کی جالی
نہ ہو جس میں محبت مصطفیٰ کی
وہ دل ایمان سے یکسر ہے خالی
محمد مصطفیٰ کو مانتے ہیں
جہانِ علم و دانش کے اَعالی
نبی کے نام سے وابستہ ہوکر
جمالی ہوگیا کوئی کمالی
شریعت بھی شریعت ساز بھی ہیں
وہ قرآں ہیں نہ سمجھو صرف تالی
جو شے منسوب پائی مصطفیٰ سے
نگاہوں میں رکھی دیکھی نہ بھالی
نجاتِ اخروی تو چاہتا ہوں
مگر ہے دامنِ دل خالی خالی
رفیقانِ نبی کا ذکر چھیڑا
جو نعتِ مصطفیٰ میں نے سنالی
ہوا ان کا جو میں اس کا ہوا ہوں
یہی بخشش کی اک صورت نکالی
حضوری تھی مری قسمت میں ورنہ
کہاں میں اور کہاں دربارِ عالی
مجھے کردے عطا اے میرے مولیٰ
اویسی جذبہ و سوزِ بلالی
نبی کی نعت جلسوں میں سنا کر
میاں تابشؔ نے بھی قسمت بنالی
- کتاب : Kalam of Tabish Mahdi (Pg. 83)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.