Font by Mehr Nastaliq Web

ہیں زمیں فلک کی جو رونقیں یہ فقط خدا کا کمال ہے

طاہر سلطانی

ہیں زمیں فلک کی جو رونقیں یہ فقط خدا کا کمال ہے

طاہر سلطانی

MORE BYطاہر سلطانی

    ہیں زمیں فلک کی جو رونقیں یہ فقط خدا کا کمال ہے

    وہ چلائے نظمِ جہان بھی وہی ماضی ہے وہی حال ہے

    اسے نیند آئے نہ اونگھ ہی کوئی کام اس کو کٹھن نہیں

    وہ ازل بھی ہے وہ ابد بھی ہے نہ اسے کبھی بھی زوال ہے

    شب و روز ذکرِ خدا کرو ہمہ وقت ذکرِ نبی کرو

    یہی ذکر راحتِ جاں بھی ہے یہی ذکر مآل و منال ہے

    کہ ہر ایک چہرہ اسی کا ہے مگر اس کا چہرہ کوئی نہیں

    وہ ہے ہر جگہ وہ کہیں نہیں وہ ازل سے ایک سوال ہے

    جو چلے رسول کی راہ پر انہیں قربِ ربِ علا ملا

    جو ولی ہیں رب کے انہیں یہاں نہ ہی خوف ہے نہ ملال ہے

    وہ تھی صبحِ صادقِ پُر ضیا ہوئی جب تھی آمدِ مصطفیٰ

    وہ جو عید عیدوں کی عید ہے وہی صبحِ نور ، وہی سال ہے

    رہِ مستقیم پہ جو چلا دو جہاں میں وہ بھلا رہا

    اسے سرفرازی عطا ہوئی وہ کرم سے رب کے نہال ہے

    میں نہ اچھا انساں ہی بن سکا میں مسلماں کیسا ہوں کیا کہوں

    مجھے رنج ہے تو فقط یہی مجھے بس یہی تو ملال ہے

    ہے زباں پہ اس کی تیری ثنا ہے جو بندہ طاہرِؔ بے نوا

    اے خدا اسے بھی ہو حج عطا یہی ایک اس کا سوال ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے