Font by Mehr Nastaliq Web

دل میں رکھنا رب کی یادوں کے سوا کچھ بھی نہیں

طاہر سلطانی

دل میں رکھنا رب کی یادوں کے سوا کچھ بھی نہیں

طاہر سلطانی

MORE BYطاہر سلطانی

    دل میں رکھنا رب کی یادوں کے سوا کچھ بھی نہیں

    یہ عمل ہوگا تو پھر رنج و بلا کچھ بھی نہیں

    بولے ابراہیم یہ سارے بتوں کو توڑ کر

    میرا رب سچا ہے باقی دوسرا کچھ بھی نہیں

    رب کے بندے خاص جو ہیں دہر ان کے واسطے

    ایک بے جاں جانور اس کے سوا کچھ بھی نہیں

    زندگی ہم نے گزاری دنیاداری میں مگر

    آخرت کے واسطے ہم نے کیا کچھ بھی نہیں

    جس کو ایماں کی ملی ہے روشنی روشن ہے وہ

    یہ جو دنیا کی ضیا ہے یہ ضیا کچھ بھی نہیں

    ربِ عالم آرزو ہے خاتمہ بالخیر ہو

    میرا تو اس کے سوا اب مدعا کچھ بھی نہیں

    ہے حرم کی سرزمیں رحمت بداماں دوستو

    اس کے آگے ساری دنیا کی فضا کچھ بھی نہیں

    روشنی مغرب کی لوگو تیرگی ہے تیرگی

    جس میں عکسِ دیں نہ ہو وہ آئینہ کچھ بھی نہیں

    راہِ حق سے جو ہٹا بندہ خسارے میں رہا

    واسطے اس کے مگر روزِ جزا کچھ بھی نہیں

    حکمِ مولیٰ گر نہ ہو تو طاہرِؔ خستہ سنو

    ہر دوا بے سود ہوگی اور دعا کچھ بھی نہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے