Font by Mehr Nastaliq Web

ذکرِ خدا سے دل مرا رشکِ قمر ہوا

طاہر سلطانی

ذکرِ خدا سے دل مرا رشکِ قمر ہوا

طاہر سلطانی

MORE BYطاہر سلطانی

    ذکرِ خدا سے دل مرا رشکِ قمر ہوا

    روشن خدا کے فضل سے دل کا نگر ہوا

    پڑھ کر جو چاروں قل کیا دم اپنے آپ پر

    پھر دور مجھ سے سارا ہی خوف و خطر ہوا

    قرآں میں اک شفا ہے ہدایت ہے نور ہے

    مومن کے دل پہ اس کا بہت ہی اثر ہوا

    کرتا رہا خطائیں مگر پھر بھی دیکھیے

    فضلِ خدا فقیر پہ بارِ دگر ہوا

    ایماں پہ خاتمہ ہو مرا ربِ کائنات

    سمجھوں گا کارگر مرا سارا سفر ہوا

    ہر ہر قدم پہ سجدے گزارا کروں گا میں

    اللہ کے گھر میں میرا بھی جانا اگر ہوا

    طوفِ حرم کی مجھ کو سعادت ہوئی نصیب

    شکرِ خدا کہ شاد مرا دل جگر ہوا

    مولیٰ کو حمد میری پسند آ گئی ہے یہ

    میرا نصیب دیکھے جلوہ اثر ہوا

    شکر خدا کروں گا جو مرجاؤں گا وہاں

    ایسا مرے نصیب میں طاہرؔ اگر ہوا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے