Font by Mehr Nastaliq Web

دل میں کچھ بھی نہ رہے رب کی محبت کے سوا

طاہر سلطانی

دل میں کچھ بھی نہ رہے رب کی محبت کے سوا

طاہر سلطانی

MORE BYطاہر سلطانی

    دل میں کچھ بھی نہ رہے رب کی محبت کے سوا

    اور کیا چاہیے سرکار کی چاہت کے سوا

    رب کی رسی کو پکڑ ورنہ بکھر جائے گا

    ہاتھ آئے گا نہیں کچھ بھی ندامت کے سوا

    بندگی رب کی کرو صحبتِ صالح پکڑو

    قیمتی شے ہے کوئی دہر میں عزت کے سوا

    رب کا منشا ہے یہی سنتِ آقا ہے یہی

    الفتیں دل میں رہیں بغض و عداوت کے سوا

    کچھ نہیں مانگتا مولیٰ ترا بندہ تجھ سے

    حشر میں سیدِ عالم کی شفاعت کے سوا

    نظمِ دنیا کو ذرا غور سے دیکھو سمجھو

    کام یہ کون کرے گا بھلا قدرت کے سوا

    بے گناہوں کو یہاں قتل جو کر دیتے ہیں

    کچھ نہیں اور ملے گا انہیں ذلت کے سوا

    بات دو لفظوں میں یوں ختم کیے دیتا ہوں

    کچھ نہیں اور یہاں جلوئہ وحدت کے سوا

    بچ نہیں پائے گا کوئی بھی اجل سے طاہرؔ

    ہے فنا سب کے لیے دہر میں قدرت کے سوا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے