رب کے کرم سے حمد کی محفل سجا سکے
رب کے کرم سے حمد کی محفل سجا سکے
رب کی رضا نہ ہو تو یہاں کون آ سکے
حکمِ خدا بغیر نہ آئے نہ جا سکے
تنکا کبھی نہ مرضی سے اپنی اٹھا سکے
در چھوڑ کر خدا کا نہ جائیں ادھر اُدھر
اے کاش عقلِ انساں میں یہ بات آ سکے
اللہ کے سوا بھی کوئی ہے تو پھر بتاؤ
ویران دل میں میرے کوئی گل کھلا سکے
راضی خدا کو کر لے کہ رب کی رضا بغیر
ممکن کہاں کہ باغِ ارم میں تو جا سکے
پہچان آدمی کو نہ اپنی ہو جب تلک
ممکن نہیں خدا کی حقیقت کو پا سکے
خوفِ خدا سے قلب ہے خالی اسی لیے
حق بات کو زبان پر انساں نہ لا سکے
دنیا میں غرق ہوگئے، سوچا نہ یہ کبھی
اللہ سے جو وعدہ کیا تھا نبھا سکے
خواہش ہے حج مرا مری عشرت کے ساتھ ہو
یہ طاہرِؔ حزیں بھی ترے گھر میں آ سکے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.