میں خاکسار بھلا کس شمار میں یا رب
میں خاکسار بھلا کس شمار میں یا رب
رہوں ہمیشہ میں تیرے حصار میں یا رب
خلیلِ رب کے لیے آگ جو لگائی تھی
کرم ہوا تھا تیرا خوب نار میں یا رب
حرا میں سید والا کی جب ہوئی آمد
تھا نور پھیلا ہوا تیرا غار میں یا رب
کرم تو تیرا مسلسل رہا ہے بندے پر
یہ خود رہا ہے غم روزگار میں یا رب
میں اپنے دل کا بہت احترام کرتا ہوں
قیام تیرا ہے دل کے دیار میں یا رب
بچا کے پاک وطن کو خزاں سے اے مولیٰ
دعا ہے رکھنا اِسے تو بہار میں یا رب
بنے ہوئے ہیں جو فرعون اس وطن میں وہ
کھڑے ہوں یہ بھی تو مجرم قطار میں یا رب
وڈیروں اور لٹیروں کا راج ہے مولیٰ
غریبِ شہر کو رکھنا حصار میں یا رب
میں کیا ہوں کچھ نہیں ذرہ ہوں ایک اے طاہرؔ
ہے میری ذات بھلا کس شمار میں یا رب
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.