Font by Mehr Nastaliq Web

رب کے احکامات مطلق روشنی اس کا خطاب

طاہر سلطانی

رب کے احکامات مطلق روشنی اس کا خطاب

طاہر سلطانی

MORE BYطاہر سلطانی

    رب کے احکامات مطلق روشنی اس کا خطاب

    رب نے بھیجی آخری دنیا میں طیب اک کتاب

    اس لیے قرآن میں آئینِ حق بھیجا گیا

    اب قیامت تک چلے گا ربِ عالم کا نساب

    اس کی قدرت کے مناظر دیکھ کر حیراں ہوں میں

    بے ستوں ہے آسماں اس پر سجایا آفتاب

    اللہ اللہ ربِ عالم کی یہ قدرت دیکھے

    ضوفشاں ہے درمیاں تاروں کے دائم ماہتاب

    آ ذرا گلزار میں کچھ غور کر کچھ فکر کر

    وہ کھلا دیتا ہے خاروں میں بھی نسرین و گلاب

    جب سوا نیزے پہ سورج آئے تو پروردگار

    بھیج دینا امتِ آقا پہ رحمت کا سحاب

    وہ تو شہ رگ سے قریں ہے دور ہے تو اس قدر

    ہر جگہ موجود بھی ہے اور نظروں سے غیاب

    یا الٰہی تو بڑا ستار ہے غفار ہے

    حشر کے دن بخش دینا مولا مجھ کو بے حساب

    جس نے طاعت کی خدا کی اور رسولِ پاک کی

    اس کے چہرے کو ملے گی رونقِ صد آب و تاب

    جس نے بھی لوٹا ہے یارب! میرے ارضِ پاک کو

    کیفرِ کردار تک پہنچا اسے اور دے عذاب

    مؤمنوں کو حشر میں طاہرؔ ثمر مل جائے گا

    واسطے ہے مجرموں کے حشر میں رب کا عتاب

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے