مصیبت میں ہمیشہ رب عالم کو پکارا ہے
مصیبت میں ہمیشہ رب عالم کو پکارا ہے
وہ پالنہار ہے میرا وہی میرا سہارا ہے
تری صناعی پر سائنس بھی ششدر ہے ہر لمحہ
زمین و آسماں کو تو نے حکمت سے سنوارا ہے
کہا کن تونے جب مولیٰ تو پھر یہ بن گئی دنیا
یہ دنیا تیری قدرت کا فقط اک استعارا ہے
سر محشر خدائے پاک یہ پوچھے گا تجھ سے بھی
بتا دنیا میں اپنی زیست کو کیسے گزارا ہے
کلام پاک میں اللہ کا یہ حکم بھی دیکھا
مرے محبوب کا جو ہوگیا وہ مجھ کو پیارا ہے
ہو رب کا خوف جس دل میں وہ طوفاں سے نہیں ڈرتا
سمندر میں بھی رہ کے ہاتھ میں اس کے کنارا ہے
امام الانبیا تم کو بنایا ذاتِ باری نے
خدا کے بعد رتبہ سیدِ عالم تمہارا ہے
خدا کا شکر ہے ہر سمت ہے آگے قدم تیرا
تجھے طاہرؔ خدا نے آپ کے صدقے نکھارا ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.