مرا یہ ذہن بھی فکرِ رسا بھی تیری ہے
مرا یہ ذہن بھی فکرِ رسا بھی تیری ہے
اور اس کی روشنی پُر ضیا بھی تیری ہے
ہیں بے شمار ستارے سجے ہوئے اس میں
یہ آسمان کی نیلی رِدا بھی تیری ہے
بھٹک رہا تھا اندھیروں میں آدمی یا رب
ترے نبیؐ نے جو بخشی ضیا بھی تیری ہے
ترے حبیب پہ بھیجیں درود کے تحفے
یہ حکم بھی ہے ترا اور رضا بھی تیری ہے
یہ پھول کلیاں یہ بھنورے یہ گلستاں تیرے
یہ دھوپ چھائوں پہ مہکی فضا بھی تیری ہے
یتیموں اور غریبوں کی تو ہی سنتا ہے
جو ان کے لب پہ ہے یا رب دعا بھی تیری ہے
سوا ہے تیری محبت ہر ایک بندے سے
کتاب بھی ہے تری اور صدا بھی تیری ہے
جو لا علاج مریض اس جہاں میں ہیں ان کو
ہے تیرا نام ہی کافی دوا بھی تیری ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.