Font by Mehr Nastaliq Web

درختوں پہ ہریالی آئی کہاں سے

طاہر سلطانی

درختوں پہ ہریالی آئی کہاں سے

طاہر سلطانی

MORE BYطاہر سلطانی

    درختوں پہ ہریالی آئی کہاں سے

    نظر آئے صحرا میں پودے جواں سے

    یہ سبزہ زمیں پر یہ دریا میں پانی

    ذرا سوچو لوگو یہ آئے کہاں سے

    زمیں گھومتی ہے یہ کس کی لگن میں

    ثنا کس کی کرتی ہے اپنی زباں سے

    نشانی ہے کس کی جو پودے ہیں خود رو

    لگائے ہیں کانٹوں میں گل بھی جواں سے

    کرم سے اسی کے یہ سانسیں رواں ہیں

    کہاں کوئی باہر ہے اس کی اماں سے

    یہ حمدِ خدا سب سے افضل ہے بے شک

    پکارے فرشتے سبھی آسماں سے

    ہو توصیف رب کی یہ ممکن نہیں ہے

    سنی حمد اعلا نبی کی زباں سے

    جو طاعت میں رب کی ہمیشہ رہا ہے

    وہی سرخ رو ہو کے گزرا جہاں سے

    ہوئے خواب محفوظ سارے فرشتے

    حرم جھوم اٹھا بلالی اذاں سے

    مواجہ پہ ان کے کھڑا رورہا ہوں

    کہا میں نے کچھ بھی نہ اپنی زباں سے

    یہ دورِ خزاں ہوگا رخصت تو اک دن

    بہاریں پھر آئیں گی اک دن وہاں سے

    کریں غور طاہرؔ ذرا موسموں پر

    سبق ہم کو ملتا ہے دورِ خزاں سے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے