با عمل میرِ کاروان بھی دے
با عمل میرِ کاروان بھی دے
تو جو چاہے تو دوجہان بھی دے
قومِ موسیٰ کو تونے سلویٰ دیا
برکتوں والا ہم کو خوان بھی دے
فاصلے ختم ہوں حرم سے مرے
مجھ کو شاہین سی اڑان بھی دے
غمزدہ بستیوں کو اے مولیٰ
رحمتوں والا آسمان بھی دے
مالکِ کل یہی دعا ہے مری
ہو فدا دیں پہ ایسی جان بھی دے
شان جو دین کی تھی ماضی میں
پھر وہی اس کو آن بان بھی دے
سرخ رو ہو تمام عالم میں
پاک دھرتی کو ایسی شان بھی دے
جھوٹ غیبت سے جن کو نفرت ہو
وہ زباں اور ایسے کان بھی دے
شہرِ رحمت میں اے مرے مولیٰ
اپنے طاہرؔ کو اک مکان بھی دے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.