Font by Mehr Nastaliq Web

سینے میں گر ہمارے قرآن ہے تو سب کچھ

طاہر سلطانی

سینے میں گر ہمارے قرآن ہے تو سب کچھ

طاہر سلطانی

MORE BYطاہر سلطانی

    سینے میں گر ہمارے قرآن ہے تو سب کچھ

    یعنی سکوں کی دولت ایمان ہے تو سب کچھ

    فرمانِ کبریا کا فرمانِ مصطفیٰ کا

    بندوں کو گر میسر عرفان ہے تو سب کچھ

    سب کو کہاں میسر انسانیت کا تمغہ

    فضلِ خدا سے اچھا انسان ہے تو سب کچھ

    بھاگو نہ اس کے پیچھے دنیا میں کیا رکھا ہے

    ایماں پہ خاتمے کا امکان ہے تو سب کچھ

    کوئی حقیر سمجھے کوئی فقیر سمجھے

    نظروں میں رب کے بندہ ذیشان ہے تو سب کچھ

    رب سے کیا تھا وعدہ روزِ الست ہم نے

    قائم وہ رب سے اپنا پیمان ہے تو سب کچھ

    رزقِ حلال لاؤں بچوں کو میں کِھلاؤں

    ایسا خیال ایسا ارمان ہے تو سب کچھ

    کوئی ارب پتی ہو یا چوہدری جہاں کا

    آقائے دوجہاں کا دربان ہے تو سب کچھ

    یہ مال و زر ہمارا اہل و عیال اپنے

    محبوبِ رب پہ طاہرؔ قربان ہے تو سب کچھ

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے