اے دل وہ بہاریں کیا ہوں گی وہ رنگِ گلستاں کیا ہوگا
اے دل وہ بہاریں کیا ہوں گی وہ رنگِ گلستاں کیا ہوگا
محبوب جہاں ہو جلوہ فگن اس بزم کا ساماں کیا ہوگا
طیبہ کے گلی کوچوں میں ہمیں آتی ہے تجلی جس کی نظر
وہ شمعِ فروزاں کیا ہوگی وہ نورِ درخشاں کیا ہوگا
لو جلد خبر اس کی شاہا یہ ہند میں ہے محتاج کرم
جو حال یہاں امت کا ہے وہ آپ سے پنہاں کیا ہوگا
مرغانِ نوا سنجان چمن سرگشتہ و حیراں بیٹھے ہیں
ہر کنج میں ہے صیاد جہاں واں کوئی خوش الحاں کیا ہوگا
احکامِ خدا جو بھول گیا جو راہِ نبی سے ہٹ کے چلا
انسان کی حقیقت کیا سمجھے وہ اور مسلماں کیا ہوگا
جو دکھ میں کسی کا ساتھ نہ دے جو اپنی غرض کا بندہ ہو
وہ شیخ و برہمن تو ہوگا لیکن کوئی انساں کیا ہوگا
جب ساقی کوثر اپنے ہیں جب شافعِ محشر اپنے ہیں
محروم کرم ہم کیو ںہوں گے ہم کو غمِ عصیاں کیا ہوگا
سرگرمیِ عقل و قلب و نظر انساں کو بخشی تھی جس نے
وہ ماہِ منور کیا ہوگا وہ مہر درخشاں کیا ہوگا
یثرب میں اگر مل جائے زمیں تھوڑی سی اسے مدفن کے لیے
پھر تہنیتؔ خوش قسمت کا یاں اور کوئی ارماں کیا ہوگا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.