Font by Mehr Nastaliq Web

مدینہ کے وہ دن وہ دل کش فضائیں

تہنیت النسا بیگم

مدینہ کے وہ دن وہ دل کش فضائیں

تہنیت النسا بیگم

MORE BYتہنیت النسا بیگم

    مدینہ کے وہ دن وہ دل کش فضائیں

    نہ کیوں یاد آئیں نہ کیوں دل دکھائیں

    وہ صبحِ حرم وہ شبِ راہِ طیبہ

    کلی جو کھلے پھول جوں مسکرائیں

    وہ فردوسِ گوش اور وہ آنکھوں کی جنت

    مناروں کی رونق اذاں کی صدائیں

    رضائے خدا تھی کہ وہ جانِ عالم

    اسی سبز گنبد میں آرام پائیں

    چلے آئیں پروانے شمعِ ازل کے

    سدا حق کے جلوے یہیں جگمگائیں

    فرشتوں پہ واجب ہے تعظیم اس کی

    یہیں آکے جن و بشر سر جھکائیں

    خدا کے کرم سے ملی تھی یہ نعمت

    توقع ہی کب تھی کہ واں بار پائیں

    عجب دل کی حالت تھی جب تھے حرم میں

    زباں پر درود اور دل میں دعائیں

    نظر آئی جالی جو اک دم مقابل

    جو تھی کیفیت دل کی کیوں کر بتائیں

    خطاؤں کا اپنی خیال آرہا تھا

    قدم ڈگمگاتے تھے کس طرح جائیں

    ادب منعِ اظہارِ غم کر رہا تھا

    تقاضائے دل یہ کہ دل کی سنائیں

    نگاہیں جھکیں سی، نفس مرتعش سے

    ہر اک کی تمنا جھلک دیکھ پائیں

    برستے تھے یوں اپنی آنکھوں سے آنسو

    گھٹاؤں پہ آتی ہیں جیسی گھٹائیں

    مؤذن نے نام نبی جب لیا ہے

    یہ جی چاہتا تھا کہ قربان جائیں

    ضیافت وہ شام و سحر ہو رہی تھی

    بجا تھا کہ جنت پہ ہم مسکرائیں

    ملی تھی نہ معلوم کیوں ایسی قسمت

    کہ آخر جدائی کے صدمے اٹھائیں

    شکایت نہیں گر مشیت یہی ہے

    اسی طرح تڑپیں، یوں ہی اے تمنا

    یہی آرزو ہے یہی ہے تمنا

    کہ آقا پھر اک بار ہم کو بلائیں

    الٰہی کچھ افتاد پڑ جائے ایسی

    جو جائیں مدینہ تو واپس نہ آئیں

    کرو تہنیتؔ صبر اور شکر ہر دم

    بجا ہے اگر ہم کو وہ آزمائیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے