مدینہ کے وہ دن وہ دل کش فضائیں
مدینہ کے وہ دن وہ دل کش فضائیں
نہ کیوں یاد آئیں نہ کیوں دل دکھائیں
وہ صبحِ حرم وہ شبِ راہِ طیبہ
کلی جو کھلے پھول جوں مسکرائیں
وہ فردوسِ گوش اور وہ آنکھوں کی جنت
مناروں کی رونق اذاں کی صدائیں
رضائے خدا تھی کہ وہ جانِ عالم
اسی سبز گنبد میں آرام پائیں
چلے آئیں پروانے شمعِ ازل کے
سدا حق کے جلوے یہیں جگمگائیں
فرشتوں پہ واجب ہے تعظیم اس کی
یہیں آکے جن و بشر سر جھکائیں
خدا کے کرم سے ملی تھی یہ نعمت
توقع ہی کب تھی کہ واں بار پائیں
عجب دل کی حالت تھی جب تھے حرم میں
زباں پر درود اور دل میں دعائیں
نظر آئی جالی جو اک دم مقابل
جو تھی کیفیت دل کی کیوں کر بتائیں
خطاؤں کا اپنی خیال آرہا تھا
قدم ڈگمگاتے تھے کس طرح جائیں
ادب منعِ اظہارِ غم کر رہا تھا
تقاضائے دل یہ کہ دل کی سنائیں
نگاہیں جھکیں سی، نفس مرتعش سے
ہر اک کی تمنا جھلک دیکھ پائیں
برستے تھے یوں اپنی آنکھوں سے آنسو
گھٹاؤں پہ آتی ہیں جیسی گھٹائیں
مؤذن نے نام نبی جب لیا ہے
یہ جی چاہتا تھا کہ قربان جائیں
ضیافت وہ شام و سحر ہو رہی تھی
بجا تھا کہ جنت پہ ہم مسکرائیں
ملی تھی نہ معلوم کیوں ایسی قسمت
کہ آخر جدائی کے صدمے اٹھائیں
شکایت نہیں گر مشیت یہی ہے
اسی طرح تڑپیں، یوں ہی اے تمنا
یہی آرزو ہے یہی ہے تمنا
کہ آقا پھر اک بار ہم کو بلائیں
الٰہی کچھ افتاد پڑ جائے ایسی
جو جائیں مدینہ تو واپس نہ آئیں
کرو تہنیتؔ صبر اور شکر ہر دم
بجا ہے اگر ہم کو وہ آزمائیں
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.