خدا قرآن میں خود ہی ثنا خواں ہے محمد کا
دلچسپ معلومات
کرے گا اور کوئی وصف کیا نورِ محمد کا
خدا قرآن میں خود ہی ثنا خواں ہے محمد کا
کروں کیا وصف قد کا گیسوؤں کا خال کا خد کا
خلاف شرع احمد جو کرے ہے مستحق حد کا
سنا ہے حال سب نے شمس کا منصور و سرمد کا
شناور جو کوئی ہے قلزم عشقِ محمد کا
خطر گرداب کا اس کو نہ کھٹکا جزر اور مد کا
مرا سینہ خزینہ بن گیا ہے عشقِ احمد کا
مجھے کھٹکا نہیں رنج و الم کے تیر کی زد کا
نہیں ہوتا جو پردہ فاش عصیاں کارِ بے حد کا
یہ صدقہ ہے محمد کا یہ صدقہ ہے محمد کا
سنبھالو یا محمد مجھ کو عصیاں کار ہوں حد کا
کہوں کس سے وسیلہ ہو تمہیں ہر نیک اور بد کا
جبھی چین آئے گا ہوں شیفتہ روئے محمد کا
کہ طیبہ سر کے بل جا کر کروں نظارہ گنبد کا
یہ کہتا ہے لگا کر پر مدینہ جلد جا لیجے
نہ پوچھو حال کچھ ہم سے ہمارے شوقِ بے حد کا
تمہیں کو شرم ہے یا رحمۃ اللعالمیں سب کی
سہارا آپ ہیں امت کے ہر اک نیک اور بد کا
خدا کے واسطے تنویرؔ کو بھی بخشوا لینا
شفیع المذنبیں ہو تم یہ عصیاں کا رہے حد کا
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.