Font by Mehr Nastaliq Web

مسجدِ نبوی تو ہی بتا، کچھ سماں وہ کیسا پیارا تھا

طرب احمد صدیقی

مسجدِ نبوی تو ہی بتا، کچھ سماں وہ کیسا پیارا تھا

طرب احمد صدیقی

MORE BYطرب احمد صدیقی

    مسجدِ نبوی تو ہی بتا، کچھ سماں وہ کیسا پیارا تھا

    صحن میں آقا بیٹھے ہوں گے، گِرد اصحاب کا حلقہ ہو گا

    دو جگ کے مختار کی باتیں، دین و دانش کی سوغاتیں

    اس محفل میں ان پھولوں سے، ہر کوئی دامن بھرتا ہو گا

    برمِ نبوت میں صدیق بھی، فاروق و عثمان و علی بھی

    چاروں یار ستارے ہوں گے بیچ میں چاند چمکتا ہو گا

    ان جلوؤں کے دن بھی تیری یاد کا حصہ ہوں گے جن میں

    حَسن، حُسین کا بچپن، نانا کی گودی میں کھیلا ہو گا

    تو نے اپنے دروازے پر وہ بھی بچّے دیکھے ہوں گے

    جن بچوں نے پیار سے اکثر نبی کا دامن تھاما ہو گا

    قربِ حضور میں اہلِ مدینہ کیسی راحت پاتے ہوں گے

    دلِ اویس غمِ فرقت سے صبح و شام تڑپتا ہو گا

    ارضِ مدینہ! بانگِ بلال سے تیری فضا جب گونجتی ہو گی

    اس کے سرور و سوز کی رو میں ہر کوئی بہہ جاتا ہو گا

    بہرِ شفاعت جب بھی دعا کو حضرت ہاتھ اٹھاتے ہوں گے

    عرشِ مشیت بہرِ اجابت طیبہ پر جُھک جاتا ہو گا ہو

    امتِ مرسل میں ہوں طربؔ اور اس رشتے پر نازاں ہوں

    اس کی قسمت کا کیا کہنا جو محفل میں بیٹھا ہو گا

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے