قدرت نے عطا کی مجھے توفیق ثنا کی
قدرت نے عطا کی مجھے توفیق ثنا کی
مرغوبِ قلم نعت ہے محبوبِ خدا کی
دل میں ہے تمنا ترے نقشِ کفِ پا کی
خوش طالعی مل جائے مجھے غارِ حرا کی
والشمس ترے عارضِ تاباں کا قصیدہ
واللیل رباعی ہے تری زلف رسا کی
ایوانِ تمدن میں ترے رخ کا اجالا
تہذیب، تجلی ترے نقشِ کفِ پا کی
خود حق نے ترے خلق کی عظمت کا کیا ذکر
تفسیر ہے قرآن تری ایک ایک ادا کی
سرکار کی بخشش میں کمی آ نہیں سکتی
ہر چیز خدا نے انہیں کثرت سے عطا کی
سلطان بھی محتاجِ کرم ان کے گدا بھی
جھولی تہی رہتی نہیں سلطان و گدا کی
اک بار اسے بخش دیا اتنا سخی نے
پھر اور کسی در پہ نہ طارقؔ نے صدا کی
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.