Font by Mehr Nastaliq Web

خلوص و جذبِ دل نذرِ عقیدت لے کے آئے ہیں

طرز لکھنوی

خلوص و جذبِ دل نذرِ عقیدت لے کے آئے ہیں

طرز لکھنوی

MORE BYطرز لکھنوی

    خلوص و جذبِ دل نذرِ عقیدت لے کے آئے ہیں

    گنہگارِ محبت ہیں محبت لے کے آئے ہیں

    درِ رحمت پہ حاضر ہیں تمہارے چاہنے والے

    بڑی حسرت سے امیدِ شفاعت لے کے آئے ہیں

    یہی بس چند آنسو ہیں یہی بس چند آہیں ہیں

    ملی ہے جو زمانے سے وہ دولت لے کے آئے ہیں

    مجھے بھی صبر کی طاقت عطا ہو یا رسول اللہ

    سنا ہے آپ دکھیوں کی ضمانت لے کے آئے ہیں

    پڑھو اب طرزؔ وہ مطلع کہ جس سے روشنی پھیلے

    محبت وہ بھی کر بیٹھیں جو نفرت لے کے آئے ہیں

    ہے جس پر ناز عالم کو وہ رحمت لے کے آئے ہیں

    محمد حق سے اقرارِ شفاعت لے کے آئے ہیں

    لباسِ فقر ہے تن پر مگر قدموں میں ہے شاہی

    نرالے ڈھنگ کی شانِ حکومت لے کے آئے ہیں

    ہزاروں کی پرستش محو کر دی ایک سجدے میں

    عجب انداز کی طرزِ عبادت لے کے آئے ہیں

    اجالا حشر تک اس کے سوا کوئی نہ پھیلے گا

    محمد آخری شمع نبوت لے کے آئے ہیں

    محمد سے محبت کیوں نہ اے طرزؔ تجھ کو بھی

    وہ سب کے واسطے دست شفاعت لے کے آئے ہیں

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے