Font by Mehr Nastaliq Web

جمایا آج میں نے رنگ کس قصر مشید کا

تسلیم نار نولی

جمایا آج میں نے رنگ کس قصر مشید کا

تسلیم نار نولی

MORE BYتسلیم نار نولی

    دلچسپ معلومات

    زیرِ نظر کلام خواجہ نور محمد چشتی مہاروی کے سالانہ عرسِ مقدس کے موقع پر بتاریخ 17 مارچ 1935ء، محلہ پیپلی کاٹیان، جئے پور میں منعقد ہونے والے ایک طرحی مشاعرے میں پیش کیا گیا، اس مشاعرے کے لیے مصرعِ طرح "ظہورِ دو جہاں ہے پرتو انوارِ محمد کا" مقرر کیا گیا تھا، بعد ازاں اس مشاعرے میں شریک شعرا کے تمام کلام کو "مظہرِ معرفت" کے نام سے شائع کیا گیا۔

    جمایا آج میں نے رنگ کس قصر مشید کا

    کیا زیرِ نگیں تیغِ زباں سے ملک سرمد کا

    دکھایا خامہ سے کیا جلوہ اک نور موبد کا

    رقم پیدا کیا کیا طرفہ بسم اللہ کے مد کا

    سر دیواں لکھا ہے میں نے مطلع نعت احمد کا

    الٰہی جلوہ تابش ہے کس کے نورِ بےحد کا

    کہ ہے قندیل کا عالم فلک کے سبز گنبد کا

    جبینِ ماہ پر ہے داغ کس کے رشک مسند کا

    طلوعِ روشنی جیسے نشاں ہو شہ کی آمد کا

    ظہورِ حق کی حجت ہے جہاں میں نورِ احمد کا

    وہ خیرالانبیا ہادی رہ خیرالسبل کا تھا

    امام المرسلیں نورالہدیٰ خاتمِ رسل کا تھا

    نہ تنہا رنگ آمیز اس چمن کے خار و گل کا تھا

    دبستانِ ازل میں وہ معلم عقلِ کل کا تھا

    نہ تھا نام و نشاں جن روزوں اس لوح زبرجد کا

    حلاوت چشمہ حیواں کی جس کے حرف شیریں میں

    مسیحا جاں بلب تھا جس کے رشکِ لعل نوشیں میں

    مکاں کون و مکاں کو کیا ہے اس کے حصن تمکیں میں

    چمن پیرائے کن فراش جس کی بزم رنگیں میں

    بہار آفرینش ایک بوٹہ اس کی مسند کا

    تعالی اللہ جب اس خورشید نے نور اپنا دکھلایا

    تو یہ نور اس کا پھیلا خود نہ پایا آپ کا سایا

    حرم والوں نے کعبہ میں بتوں کو سر نگوں پایا

    عجم میں زلزلہ نو شیرواں کے قصر میں آیا

    عرب میں شور اٹھا جس وقت اس کی آمد آمد کا

    حلاوت خلد میں تھی کوثر و تسنیم کو اس سے

    جھکا رہتا ہے قصر آسماں تعظیم کو اس سے

    نہ کچھ حاصل کیا امت سے ہی تکریم کو اس سے

    شرف حاصل ہوا آدم اور ابراہیم کو اس سے

    نہ تھا فخرِ دو عالم فخر تھا اپنے اب و جد کا

    بنایا حق نے رحمت ذاتِ پاک سرورِ دیں کو

    اتارا عرش سے اس خاک پر عالم کی تزئیں کو

    کہ تا روشن کرے آئینہ ساں اس شہ کے آئیں کو

    وہ اس عالم میں رونق بخش تھا حوروں کی تسکیں کو

    گیا جنت میں طوبیٰ بن کے سایہ اسی سہی قد کا

    وہ خلوت گاہ قدسی سے جو فرش خاک پر آیا

    برنگِ مہر نور اس کا جہاں میں جلوہ گر آیا

    بسیط خاک کی روز ولادت سیر کر آیا

    شبِ معراج چڑھ کر عرش پر دم میں اتر آیا

    بیان اس قلزم معنی کے ہو کیا جزر اور مد کا

    دکھایا آسماں نے ماہ جوں دُرِ طبق اس کو

    تو سفتہ کر کے اک انگشت سے کر ڈالا شق اس کو

    یہ ظاہر میں ظہورِ قدرت رب الفلق اس کو

    کشادہ عقدہ باطن میں کافی نام حق اس کو

    کھلا کرتا ہے بن کنجی ہمیشہ قفل ابجد کا

    رہا کرتا تھا اس خورشید کا واں عرش پر سایا

    برائے مصلحت چندے جہاں میں جلوہ فرمایا

    وفورِ شوق سے خالق نے پھر پاس اپنے بلوایا

    وفاتِ ظاہری سے جوہرِ جاں میں نہ فرق آیا

    وہ جسمِ پاک گو محسود تھا روحِ مجرد کا

    جہاں مہر سپہر رہنمائی جلوہ آرا ہو

    تو خفاش سیہ طالع کا واں کیوں کر گزارا ہو

    مقامِ داستاں میں دشمنِ دیں کا گزر کیا ہو

    گر افعی بن کے جا نکلے ادھر ابلیس اندھا ہو

    ملا ہے قصر اخضر روح کو اس کی زمرد کا

    تعالیٰ اللہ شانِ پادشاہ اکمل و کامل

    دیارِ جسم کے حاکم فضائے روح کے عامل

    یہاں اسرار سے محمول واں انوار کے حامل

    ادھر اللہ سے واصل ادھر مخلوق کے شامل

    خواص اس برزخ کبریٰ میں تھا حرف مشدد کا

    ہو منظور جب اظہار سرِ صنع کا حق کو

    کیا پیدا رسول مصطفیٰ کی ذات اشفق کا

    کہاں ہو مستقل مصدر نکالیں گر نہ مشتق کو

    گزر وحدت سے کثرت میں نہ ہوتا ذاتِ مطلق کا

    نہ بنتا صفر گر نقشِ احد پر میم احمد کا

    سبب ذرہ کا خورشید درخشاں جمعیت کا ہو

    خضر کو چشمہ حیواں سے موجب انسیت کا ہو

    کتاں کو رات کی ظلمت سے ساماں حریت کا ہو

    بھروسہ ہر کسی کو اک حصارِ عافیت کا ہو

    مجھے نام مبارک کا ہے ذوالقرنین کو سد کا

    خدا نے مظہرِ رحمت کیا ہے تم کو امت میں

    نہیں ہے شائبہ قہر و غضب کا تیری رحمت میں

    تری رحمت کے معنی کیا کھلیں ہیں شہر صورت میں

    بٹیں گے جس گھڑی عشرت کے ساماں بزم جنت میں

    کھلے گا حال امت کو ترے انعام بے حد کا

    قیامت میں جو دکھلائیں گے سب اپنی بضاعت کو

    کوئی صبر وقناعت کو کوئی تقویٰ وطاعت کو

    نہ ہوگا دخل واں ہرگز کسی کی استطاعت کو

    لب گوہر فشاں وا ہوں گے جب عرضِ شفاعت کو

    تماشا گاہ محشر میں تکیں گے نیک منہ بد کا

    کیا کحل ہدایت آپ نے چشمِ ضلالت میں

    دیا رونق متاعِ دیں کو بازار عدالت میں

    نہیں ہے شک ہمیں ہرگز تری عز و جلالت میں

    عدو کو حشر تک انکار ہو تیری رسالت میں

    محل باقی رہے اللہ کے قول موکد کا

    تعالیٰ اللہ اے شاہ دوعالم تیری عز و شاں

    تیرا قطرہ ہے عینِ بحر نور حضرت رحماں

    کوئی ممکن ہو ہمسر تیرا عالم میں یہ کیا امکاں

    ہوا تجھ سا نہ ہوسکتا ہے میرا ہے یہی ایماں

    نہ مانوں مسئلہ ہرگز کسی زندیق و مرتد کا

    طبیعت کو نہ ہو کیوں مثل مہ اب جلوہ انگیزی

    تمہارا آفتابِ مدح کرتا ہے ضیا ریزی

    مدیحت سے تری ہے اشہبِ فکرت کو مہمیزی

    تری تعریف سے میری زباں میں آ گئی تیزی

    صفا ہاں تک مسخر ہوگا اس تیغِ مہند کا

    طبیعت اب مری ہے مہر و مہ سے تاج کی طالب

    کہ تیری خاکِ پاکی شوق میں ہے تاج کی طالب

    عجب کیا ہے کہ ہو کنجشک بھی دراج کی طالب

    ہوئی ہے ہمتِ عالی مری معراج کی طالب

    میسر ہو طواف اے کاش مجھ کو تیرے مرقد کا

    تمنا ہے منور تیرے عتبہ سے کروں آنکھیں

    برنگ سرمہ گرد عتبۂ دیں سے بھروں آنکھیں

    کبھی تو دور سے اس سمت پر اپنی رکھوں آنکھیں

    کبھی نزدیک جاکر آستانہ پر ملوں آنکھیں

    کبھی گر دور بیٹھوں میں کروں نظارہ گنبد کا

    مرے ایام غم اس غم کدہ میں ہو گئے پورے

    نہ پہونچا آستاں پر بار سے اندوہ و محنت کے

    بس اب تیری عنایت سے خدا کے فضل و رحمت سے

    تمنا ہے درختوں پر ترے روضہ کے جا بیٹھے

    قفس جس وقت ٹوٹے طائر روح مقید کا

    غرض عاشق کو ہے معشوق کی حرف و حکایت سے

    کبھی ہے نام کا محبوب کا مشتاق الفت سے

    ملا تسلیمؔ ساں رتبہ مدیح شہ کی دولت سے

    خدا منہ چوم لیتا ہے شہیدی کس محبت سے

    زباں پر مرے جس دم نام آتا ہے محمد کا

    مأخذ :

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے