رکھی تھی خشتِ اول خوب قصرِ نظم اردو کی
دلچسپ معلومات
منقبت در شان حضرت ابوالحسن امیر خسروؔ (دہلی-بھارت)
رکھی تھی خشتِ اول خوب قصرِ نظم اردو کی
مبارک ہاتھ سے اے خسروِ شیریں زباں تو نے
سکھائی عندلیبانِ وطن کو نغمہ آرائی
بہ صد اندازِ نوائے طوطیٔ ہندوستاں تو نے
تڑپتے ہیں نواؤں پر تری ہندو ہیں یا مسلم
کہ بھر دی نالۂ ناقوس میں بانگِ اذاں تو نے
ادیبانِ سخنور ہند کے ممنون ہیں تیرے
زبان تازہ دی اور ساتھ ہی حسنِ بیاں تو نے
مئے حسنِ ازل سب کو پلا کر ایک ساغر سے
مٹا دیں میگساروں میں تمیزِ ایں و آں تو نے
- کتاب : نذر خسرو امیر خسرو (Pg. 15)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.