خدا کا شکر ہے، کتنا حسیں میرا مقدر ہے
خدا کا شکر ہے، کتنا حسیں میرا مقدر ہے
میرے لب پر ثنائے رب ہے یا نعتِ پیمبر ہے
یقین جانو! محمد عظمتوں کا ایسا پیکر ہے
زِ سر تا پا جو انوارِ الٰہی سے منور ہے
کبھی پڑھتا ہوں میں نعتِ پیمبر کیف و مستی میں
کبھی میرے لَبوں پر نعرہ اللہ اکبر ہے
بصیرت کی نظر ہے، تو مدینے کی فضاؤں میں
جدھر دیکھو، ادھر عکسِ جمالِ روئے انور ہے
ہزاروں نور کی ندیاں، جہاں سے بہہ کے نکلی ہیں
مدینے ہی میں تو عشقِ خدا کا وہ سمندر ہے
مسلسل دیکھتا رہتا ہوں، پھر بھی جی نہیں بھرتا
عجب پُرکیف و دلکش گنبدِ خضرا کا منظر ہے
وہیں چلیے، وہیں چلیے، تقاضا ہے یہی دل کا
مدینے کی ہوا ہی اب علاجِ قلبِ مضطر ہے
طفیلؔ اپنے لیے تو بس یہی ہے باعثِ تسکیں
امیرِ کارواں اپناہ شفیعِ روزِ محشر ہے
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.