Font by Mehr Nastaliq Web

خدا کا شکر ہے، کتنا حسیں میرا مقدر ہے

طفیل احمد مدنی

خدا کا شکر ہے، کتنا حسیں میرا مقدر ہے

طفیل احمد مدنی

MORE BYطفیل احمد مدنی

    خدا کا شکر ہے، کتنا حسیں میرا مقدر ہے

    میرے لب پر ثنائے رب ہے یا نعتِ پیمبر ہے

    یقین جانو! محمد عظمتوں کا ایسا پیکر ہے

    زِ سر تا پا جو انوارِ الٰہی سے منور ہے

    کبھی پڑھتا ہوں میں نعتِ پیمبر کیف و مستی میں

    کبھی میرے لَبوں پر نعرہ اللہ اکبر ہے

    بصیرت کی نظر ہے، تو مدینے کی فضاؤں میں

    جدھر دیکھو، ادھر عکسِ جمالِ روئے انور ہے

    ہزاروں نور کی ندیاں، جہاں سے بہہ کے نکلی ہیں

    مدینے ہی میں تو عشقِ خدا کا وہ سمندر ہے

    مسلسل دیکھتا رہتا ہوں، پھر بھی جی نہیں بھرتا

    عجب پُرکیف و دلکش گنبدِ خضرا کا منظر ہے

    وہیں چلیے، وہیں چلیے، تقاضا ہے یہی دل کا

    مدینے کی ہوا ہی اب علاجِ قلبِ مضطر ہے

    طفیلؔ اپنے لیے تو بس یہی ہے باعثِ تسکیں

    امیرِ کارواں اپناہ شفیعِ روزِ محشر ہے

    Additional information available

    Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.

    OKAY

    About this sher

    Close

    rare Unpublished content

    This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.

    OKAY
    بولیے