ہو کرم سرکار اب تو ہوگئے غم بے شمار
ہو کرم سرکار اب تو ہوگئے غم بے شمار
جان و دل تم پہ فدا اے دو جہاں کے تاجدار
میں اکیلا اور مسائل زندگی کے بے شمار
آپ ہی کچھ کیجیے نا! اے شہِ عالی وقار
یا خدا دکھلا حطیم پاک میزاب و مقام
اور صفا مردہ مجھے بہر رسول ذی وقار
یاد آتا ہے طواف خانۂ کعبہ مجھے
اور لپٹنا ملتزم سے والہانہ بار بار
جا رہا ہے قافلہ طیبہ نگر روتا ہوا
میں رہا جاتا ہوں تنہا اے حبیب کردگار
جلد پھر تم لو بلا اور سبز گنبد دو دکھا
حاضری کی آرزو نے کردیا دل بے قرار
گنبدِ خضریٰ کے جلوے اور وہ افطاریاں
یاد آتی ہے بہت رمضان طیبہ کی بہار
یا رسول اللہ سن لیجیے میری فریاد کو
کون ہے جو کہ سنے تیرے سوا میری پکار
حال پر میرے کرم کی اک نظر فرمائیے
دل میرا غمگین ہے اے غمزدوں کے غمگسار
قافلے والو! سنو یاد آئے تو میرا سلام
عرض کرتا روتے روتے ہوسکے تو بار بار
غمزدہ یوں نہ ہوا ہوتا عبیدؔ قادری
اس برس بھی دیکھتا گر سبز گنبد کی بہار
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.