دیکھو نکلا آفتاب رات کی جا چکی رات
بانسری کی دھن میں ہے گوش بہ نغمہ کائنات
کیا ہی دل فریب ہے تیری بانسری کی بات
کرنیں ناچنے لگیں بانسری کے سر کے ساتھ
اے فقیر بے نوا بانسری بجائے جا
اپنی بانسری ملا نغمۂ حجاز سے
ہو حقیقت آشنا صورت مجاز سے
کہنا ہو درد دل اگر شوخ مست ناز سے
بھیرویں راگ چھیڑ سوز اور گداز سے
اے فقیر بے نوا بانسری بجائے جا
تیرا گذر محال ہے خستہ دل اس مکان تک
سیکڑوں بے نشاں ہوئے مل نہ سکا نشان تک
جا نہیں سکتا اس جگہ گر چہ تیرا گمان تک
پر تیرے درد کی صدا پہنچے گی اس کے کان تک
اے فقیر بے نوا بانسری بجائے جا
- کتاب : گلدستۂ نعت (Pg. 124)
Additional information available
Click on the INTERESTING button to view additional information associated with this sher.
About this sher
rare Unpublished content
This ghazal contains ashaar not published in the public domain. These are marked by a red line on the left.